Sirat e Mustqeem

January 21, 2012

What’s this blog about!

Filed under: Current Affairs, History, Islam, protest, social revolution — abushaheer @ 9:16 pm

Assalamoallaikum,

Have you ever pondered on the Arabic word ‘Siratal Mustaqeem’ of suratul Fatiha? We recite it daily, but think about it seldom!

Siratal Mustaqeem, the straight path, the righteous path, the path of those who have been blessed, and which takes us away from those who are Allah’s enemy, the people who faced the wrath of Allah.

Today, we’re surrounded by a lot of problems; by we, I mean Muslims in general and the people of Pakistan in particular. Why have we come to this condition and what is the way out, are small questions with big answers!

A few friends are initiating an online effort for getting a better understanding of the problems faced by us every day in the light of Quran and Sunnah. We are looking to resolve our problems by approaching the Sirate Mustaqeem, the shortest path to the success, inshaAllahul Aziz.

In this regard, we would really appreciate those of our friends who spend a bit of time online, to chip in to this website, and have their say regarding the problems with their solutions.

We are looking to identify key issues, identify the solutions and start working on them. A lot of those problems are beyond our control, but most of them are within our control. So let’s start exploring.

JazakalLah Khair

Thanks,

On behalf of Team SM

April 12, 2012

وقت بیعت کب ہوگا؟

کسی بھی قوم یا ملک کے لئے دو میں سے کوئی ایک ہی صورت ہوتی ہے . یا تو وہ حالت امن کی  ہوتی ہے یا جنگ کی . اسی طرح  ملکوں کی  جو  قسمیں معروف ہیں وہ  دار الاسلام اور دار الکفر،  اور  دار الحرب اور دار الامن ہیں. ان سب حالتوں اور قسموں کے لئے احکام اور فرائض اور واجبات کی تفصیلات میں فرق ہے اور کسی بھی مسلمان کے لئے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ وہ ان میں سے کس قسم کے احکامات کے ذیل میں آتا ہے اور اسی حساب سے اس کو اپنے اعمال کو ترتیب دینا چاہیے. یہ اتنا اہم سوال ہے جس کا جواب حاصل کرنا میرے نزدیک  ہرشخص کے لئے ضروری ہے. اسی لئے اس کے صحیح جواب کے حصول کے لئے میں اس خط کے ذریعے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے علمائےکرام کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہتا ہوں، بلا تخصیص فقہ و  مسلک.

جناب والا، جو حالات اس وقت اس سرزمین پر واقع ہورہے  ہیں وہ  کچھ سمجھ سے بالا تر ہیں. ایک طرف تو بازار اور ریستوراں بھرے رہتے ہیں اور دوسری طرف انہی گلیوں میں موت کا رقص ہو رہا ہے.یہ بہت پرانی بات نہیں ہے جب   لوگ اکیلے نہیں غول کے غول  اغواء ہورہے تھے. کراچی کی حالت مرغیوں کے اس ڈربے کی طرح ہو گئی ہے جس میں جب قصاب ہاتھ ڈالتا ہے تو ایک کھلبلی مچ جاتی ہے. اور جب قصاب اس میں سے اپنے مطلب کی مرغی نکال لیتا ہے تو وہ مرغی  تو چیخ چیخ کر  فریاد کرتی رہتی ہے لیکن دوسری مرغیاں اپنے دانے پانی میں مصروف ہو جاتی ہیں. کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس مرغی کی باقیات دوسری مرغیوں کو کھانے کو دے دی جاتی ہیں!

 ہمارے ملک میں  تقریباً  روز ایک بیرونی حملہ ہوتا ہے لیکن حکومت ایک مریل سے  احتجاجی بیان کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرتی.  یہ حالت  امن کی ہےیا  جنگ کی؟ یہ دار الامن ہے یا دار الحرب؟ کیا ہم پر کسی دشمن ملک نے حملہ کیا ہے؟ اگر ہاں تو ہم اس کے لئے کیا کرسکتے ہیں؟ اور اگر نہیں تو کیا امریکا ہمارا دوست ہے؟ اور کیا اسلام میں یہ بات پسندیدہ ہے کہ کوئی بھی کافر فوج مسلمانوں کے علاقے میں  آ کر  مسلمانوں کو مار دے وہ بھی بغیر کسی ثبوت  کے؟ اس بات میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں کہ ڈرون حملوں کو حکومتی حمایت ہی نہیں سرپرستی بھی حاصل ہے.موجودہ حکمران طبقہ باوجود اس کے کہ  ہماری تاریخ کے بعض  بد ترین لوگوں پر مشتمل ہے ، اس کو نہ  عدلیہ کی طرف سے کوئی خطرہ ہے نہ فوج اور نہ ہی اپوزیشن یا حلیف جماعتوں سے. ان سب کو  دارالحکومت میں موجود شاطر دماغ شخص نے اپنی چالوں میں ایسا پھنسایا ہے کہ اب اس حکومت کے خلاف کیا گیا کوئی بھی اقدام صرف اس حکومت کو ہی فائدہ پہنچائے گا اور کسی کو نہیں. اور سچ تو یہ ہے کہ اس نظام میں جو بھی آیا پچھلے والے سے بد تر آیا، تو یہ سوچتے ہوئے بھی ابکائی سی آتی ہے کہ اگر یہ گئے تو ان سے بد تر کیا ہو گا؟

محترمی ، یہ بات تقریبا تمام  فقہا کے نزدیک مسلم ہے کہ مسلمان حکمران کے خلاف خروج جائز نہیں جب تک وہ فرائض اور واجبات کی ادائیگی سے نہیں روک رہا.بلکہ بغاوت کرنے کا ارادہ بھی رکھنے  والے کو قتل کیا جا سکتا ہے.شاید اسی لئے پوری مسلم امہ میں جو کٹھ پتلی حکمران ہیں  انہوں نے نہ صرف یہ کہ عوام کو کبھی فرائض کی ادائیگی سے نہیں روکا بلکہ ان میں مزید بدعات اور رسومات  کی بھی ترویج کی تاکہ لوگوں کو لگے کہ وہ عبادت میں آزاد ہیں. ہمارے ملک میں بھی چاہے جمعہ یا عیدین کے اجتماعات ہوں یا محرّم و میلاد کے، حکومت ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ ان میں کوئی رکاوٹ نہ ہو.

لیکن کیا  فرائض کی ادائیگی کا مطلب یہ ہے کہ صرف نماز ، روزے، حج اور زکوۃ ٰ کی آزادی ہو؟ اسلام کےا ہم ترین فرائض میں سے ایک جہاد فی سبیل اللہ  بھی ہے جس کے  فرض ہو جانے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کوئی کافر ملک کسی اسلامی ملک پر حملہ آور ہو جائے. کیا یہ ڈرون حملے (جو آئے دن ہوتے رہتے ہیں ، نیز سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ والے واقعے کو بھی ابھی زیادہ دن نہیں گزرے)   ایک کافر ملک کا ایک مسلمان ملک پر حملہ نہیں کہلاتے؟ خصوصا جب کہ مرنے والے ٩۰ فیصد  لوگوں میں عورتیں، بوڑھے اور بچے شامل ہیں اور جو باقی دس فیصد مرتے ہیں ان کے خلاف بھی کوئی ثبوت  دینے کی زحمت وہ کافر ملک نہیں کرتا. کیا ان ڈرون حملوں کا جنگ کے حکم میں آنے کے لئے ضروری ہے کہ یہ حملے کراچی یا لاہور میں ہوں؟ کیا  وزیرستان، وانا اور ڈاما ڈولا میں رہنے والے مسلمان نہیں؟ کیا وہ پاکستان نہیں؟  اس بات سے قطع نظر کے یہ ڈرون ہمارے علاقوں سے اڑتے ہیں اور یہ کہ ان کو حکمران طبقے کی در پردہ پشت پناہی حاصل ہے، اس بات میں شمہ برابر بھی شک نہیں ہے کہ یہ ڈرون امریکی فوج کے ہیں جو اسرائیلی پالیسیوں اور دجالی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں استعمال ہو رہے ہیں. کیا اب بھی جہاد فرض نہیں؟ کیا اب بھی حکومت فرائض ادا کرنے دے رہی ہے؟

جناب والا، یہ بات سچ ہے کہ ماضی میں کئی ایسے واقعات ہیں جن میں  آپ کے ہی بزرگوں نے ایسے ایسےمضبوط موقف اپنائے ہیں کہ حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہونا پڑا. قادیانی فتنہ اس کا بیّن ثبوت ہے. لیکن فی زمانہ علماء کے لئے یہ بہت مشکل ہو گیا ہے کہ وہ حق کے  لیے آواز  بھی اٹھاسکیں چہ جائیکہ اس کے لئے ہتھیار اٹھائیں. مولانا غازی عبد الرشید نے یہ کام کیا تھا لیکن ان کووہیں دبا دیا گیا. لال مسجد کا حشر کر کے جہاں طاغوت نے اس “فتنہ” کا قلع قمع کیا وہیں اس نے یہ بات بھی یقینی بنا لی کہ  اب کوئی بھی  سرفروش امر با لمعروف و نہی عن المنکر  کی “خواہش” دل میں نہ پال سکے. دوران گزشتہ رمضان   پریس کانفرنس اس بات کا ثبوت ہےکہ علماء جو پہلے ہی “گوشہ نشین”  تھے ، اب کم گو  بھی ہو گئے ہیں . ان کو احساس ہے کہ کوئی بھی مہم جوئی ان کو نہ صرف تنہا کر دے گی بلکہ ان کا علمی ورثہ بھی ختم ہو سکتا ہے.  آپ کے سکوت میں یقینا کوئی مصلحت ہوگی لیکن کسی کا دنیاوی انجام ہرگز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ کام کرنے کا نہیں.  لال مسجد  نے جو بھی کیا وہ مکمل طور پر صحیح  نہ سہی، لیکن غلط بھی نہیں. ان کا لائحہ عمل قابل اختلاف ہے لیکن مقصدنہیں.

حضرت، گستاخی کی معافی چاہتا ہوں لیکن آپ حضرات کے صبر کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے اس ملک میں کیا کیا کھیل کھیل دئیے گئے۔ نصاب میں سے جہاد کی آیات نکال دی گئیں۔ ہمارے ملک سے پکڑ پکڑ کر لا تعداد لوگوں کو غیر مسلم قوتوں کے حوالے کیا گیا۔ داڑھی اور جبہ و دستار کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ مخنث  کو ایک الگ جنس  قرار دے دیا گیا ہے جس کی وجہ سے آج اس ملک میں مرد سے مرد کی شادی کا قانونی راستہ نہ صرف کھل گیا ہے بلکہ اس قبیح فعل کا ارتکاب ہو بھی چکا ہے جس کو میڈیا میں کھلم کھلا دکھایا جا رہا ہے۔  آزادی اظہار رائے  اور روشن خیالی کے نام پر  فحش کلامی ، فحاشی اور عریانی کا بازار گرم کر دیا گیا۔ شراب اور دیگر منشیات اس وقت  تقریبا سر عام مل رہی ہیں۔  لوگوں سے بجلی، گیس اور دوسرے بلوں کی مد میں گزشتہ تاریخوں میں پیسے بڑھا کر اگلے مہینوں میں وصول کیے گئے جو کہ احقر کے علم کی حد تک نا جائز اور غیر شرعی ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کو رہا کر دیا گیا جس کے لیے دیت کے قانون کا سہارا لیا گیا۔ ہمارے ملک کے حکمرانوں نے غیر مسلم حکمرانوں کو تعاون کے خطوط  لکھے اور پھر بھی مسند اقتدار سے ہلنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ یقین کریں کہ عوام صرف اس لئے چپ بیٹھے ہیں کہ علماء چپ بیٹھے ہیں. علماء TV پر آ کر رمضان کے فیوض و برکات پر درس دے دیتے ہیں لیکن حکمرانوں کی منافقت پر جمعہ کے خطبوں میں بھی شاذ  ہی بولا جاتا ہے. بلکہ قنوت نازلہ تک کی صدا کہیں سے نہیں آتی. محض قنوت نازلہ کی ملک گیر تحریک سے ہی کم از کم لوگوں میں بیداری کا جذبہ تو آئے گا. لوگ سوال کریں گے کہ یہ کیا ہے اور کیوں ہوتا ہے؟  کیا عجب لوگ اسی طرح اپنی حالت پر متوجہ ہو  جائیں.

اس وقت  ملک کے پانچوں وفاق المدارس میں لاکھوں طلباء پڑھ رہے ہیں. یہ  طلباء جہادکے موضوعات بھی پڑھ رہے ہیں اور خاص  قتال جیسے موضوعات بھی. جب وہ پڑھتے ہونگے کہ نبی اکرم ﷺ نے یہودیوں کے ایک قبیلے پر محض اس لئے چڑھائی کر دی تھی کہ اس نے ایک مسلمان کو قتل کیا تھا اور وہ مسلمان اس لئے قتل کیے گئے تھے کہ انہوں نے ایک مسلمان بہن کے سر سے دوپٹہ کھینچنے پر ایک یہودی کو قتل کر دیا تھا. وہ پڑھتے ہونگے کہ نبی رحمت ﷺ نے  کئی کئی دن قنوت نازلہ پڑھ کر کافروں کے لئے بد دعائیں کیں.  پھر  یہ طلباء دیکھتے ہیں کہ گاؤں کے گاؤں اور بستیوں کی بستیاں ہیں کہ قتل کی جارہی ہیں لیکن  نہ کہیں کوئی ذمہ دار شخص یہ کہتا ہے کہ یہ بند کرو اور نہ ہی کوئی بزرگ  ہاتھ خاص اس دعا کے لئے اٹھتا نظر آتا ہے.سمجھ نہیں آتا کہ  یہ مدارس اپنے ان بچوں کو کیونکر روک پاتے ہونگے جب ان بچوں کا خون کھولتا ہوگا. اس طاقت کو دجالی طاقتیں  بخوبی سمجھتی ہیں اسی لئے مستقل یہ کوشش جاری ہے کہ مدارس کو حکومتی اثر میں لے آیا جائے. اور وہ وقت آج یا کل میں آنے ہی والا ہے. آپ اپنے مدارس کو بچانے کے لئے افغان کاز  سے پیچھے  ہٹے تھے، جنگ پاکستان میں آگئی . آپ نے شمالی علاقوں سے لا تعلقی کا اعلان کیا، جنگ اب آپ کے شہروں میں  ہے. اور وہ دن دور نہیں جب آپ کو ایک ایک کر کے تنہا کیا جائے گا. پہلے ایک گرے گا پھر دوسرا پھر تیسرا. اور ہر دفعہ باقی سب کو یہ لگ رہا ہو گا کہ ان کے مدرسے کو کچھ نہیں کہا جائے گا کیونکہ وہ تو کچھ کر ہی نہیں رہے. اگر اس میں کوئی شک ہے تو ہمارے سامنے اندلس  کی تاریخ  بہت واضح نشانی ہے۔

یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ جب جب اللہ اور رسول ﷺ کا نام لیا گیا ہے عوام اور خواص دونوں اپنے اپنے مسلکی اور فقہی اختلافات بھلا کر ان مقدس ناموں کی چھتری تلے جمع ہو گئے ہیں. علماء میں ایسے بزرگ آج بھی ہیں جن سے عوام اور خواص یکساں عقیدت رکھتے ہیں. ایسے بزرگ  اگر آواز دیں گے تو لوگ لازما پلٹیں گے. اور کچھ نہیں تو یہ لاکھوں طلبا جو آپ کے مدارس میں پڑھ رہے ہیں  وہ تو ان شاءاللہ آئیں گے ہی. ان کی رگوں میں دوڑتا اسلاف کا لہو کوئی ایسا بے وقعت بھی نہیں کہ جس میں غیرت ایمانی نہ ہو. اور عوام بھی اگر لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کے لئے سڑکوں پر آ سکتے ہیں تو ان میں سے کچھ تو  اللہ رسول ﷺ کے نام پر آئیں گے.

اپنے پہلے سوال پر واپس آتا ہوں۔ صرف اتنا حکم فرما دیجیے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اس وقت دارالاسلام ہے یا دارالحرب۔ دونوں صورتوں میں  خاص ہمارے ملک کے حساب سے احکامات مستنبط فرما دیں  اور اس کو عام کرنے کی اجازت دے دیں تو  ہم عوام کے لیے بہت سہولت ہو جائے گی۔ دوسری جانب اگر آپ سمجھتے ہیں کہ واقعی جہاد کی پکار لازم ہو چکی ہے تو آواز لگانا آپ پر فرض اور جہاد کے لئے بیعت لینا آپ کے لئے لازمی ہے. اور اگر  یہ سمجھتے ہوئے بھی آواز نہیں اٹھاتے تو  یقیناً بروز جزا اس مالک یوم الدین کو دینے کے لئے آپ کا  جواب تیّار ہو گا ہی.

و ما علینا الا البلاغ

Is Facebook Catalysing Sectarian Divide?

Filed under: Current Affairs, Islam — Tags: , , , , , , , — baigsaab @ 1:55 pm

Nothing divides like religion!

That’s actually just another way of saying nothing connects like it but that’s beside the point. This write up is about the effect Facebook – which is the embodiment of an almost perfect social networking website- is having on the sectarian differences amongst Muslims.  My thesis is that, whether by design or by accident, it’s causing the rift between different religious sects to aggravate. How can I say that? Well, part from personal experience and rest from empirical inference. I don’t have any statistical data to substantiate my claim as to how many barelvis were offended by a particular post by a deobandi friend, and with all honesty, facebook is the only likely party to have such data at their disposal. Nonetheless, how did I conclude that facebook is doing this? For that I’ll have to take you to our university days.

Back in the university, there were three broad categories of people when classified for religiosity. There were the ultra liberals who never took religion seriously. Then there were the ultra religious who maintained a very definitive view of life and the hereafter and you could tell them from the others just by looking at them. Then there were the neither-here-nor-there-seeking-best-of-both-worlds kind of people. For they did pray daily, sometimes more than once, but they also had fun, you know what I mean, the ones who offered prayers in cinemas. The liberals hardly had any friends in the ‘mullas’ and vice versa. The third group had good acquaintance in both the others but their friendships were really rooted in their own. Now this ‘moderate’ group- which incidentally this scribe was also part of- had people from all sorts of religious backgrounds. There were sunnis, shias, barelvis, deobandis, salafis, just about as much diverse as it could get. These were the people who didn’t wear their religion on their sleeves and were rather very accommodating to anyone. They weren’t aware, or rather couldn’t care less why barelvis and deobandis call each other what they call each other. Deobandis didn’t know why they were deobandis and barelvis didn’t know exactly why they celebrated Milad. The sunnis went to koonday and the shias attended iftaar parties even though they knew the sunnis will have eaten everything within the 5 minutes gap between the iftar time of the two sects.

Back then, if anyone had to tell someone what barelvis have written in their books, they had to convince them to read the book that had some shocking evidence about how astray barelvis are. Similaraly, a barelvi had to spend hours if not days to school a layman about how divisive the deobandis were. Same goes for shias and sunnis and salafis and so on and so forth.

Years passed by and those people were now mature enough to have formed their biases essential for grown-up human beings.

Then, facebook happened! Here was a unique way to not only find the long-lost friends but instantly share and enjoy with them. Sharing on facebook is unlike any other sharing experience many of us have had in our lifetimes. It’s unlike email, because it’s uncivilized to pepper everyone with everything you like. It’s unlike a delicious bookmark or a youtube like, cuz not everyone’s there. All you need to do to share something is to put it on your wall, on your ‘own’ wall, and your buddies will see if they like. It’s on the back of such amazing ease of use and robustness that facebook has exploded to be the most populous global website, more populous than most countries of the world!

Of all the things people share on facebook, religious matter is the most serious and often either delightful or acrimonious depending upon which side of the argument you are. Now it’s all the easier to share a speech from maulana tariq jameel or a qirat of mishary alafasy or sheikh sudais or shuraim. It’s also easier to share with others the views of dr israr ahmed, or dr tahir ul qadri, or mufti taqi usmani. This ease of use, while very beneficial for their followers and disciples and the neutrals, is also at the root of the problem I want identified.

With all due respect to all the religious scholars, let’s all accept the fact that they’re humans. They’re fallible, although less so than the rest of us but fallible all the same. That being said, most of the videos that are shared are clips from longer speeches and hence are mostly out of context. While their disciples and followers understand fully what a particular metaphor means, an ‘outsider’ is prone to totally misinterpret it. So the human error is magnified by it being out of context and a potential bickering is ready to be had. I don’t even have to give evidence of such instances as it may already be your experience.

To be honest, I don’t think the scholars are fully at fault here, although them being humans their error can’t be ruled out. However, to me it’s the people who publish this material who are the real ones responsible for this growing acrimony. Not everything is for everyone, religious matter more so. Every scholar says and shares things according to the social and psychological status of the audience. It’s not only ethical it’s necessary. So while one thing is said in a hushed tone to some group, the same would be said with vigor to a more accepting audience.

My personal experience is bad enough to share. All I can say is that I and my best mate are hardly on talking terms right now because he likes one scholar and I like another and they both are poles apart. In our university life and even after that, we were never the ones to wear religion on our sleeves so we hardly cared about the other’s background. Now somehow it’s not the case. I have to share part of the blame too but I believe if it wasn’t for facebook, we wouldn’t have known that our respect for those scholars – rather the respect for what they stand for – runs deeper than our friendship.

I could end this write-up here but that would not only be abrupt but unfair as well. Unfair because merely pointing out a problem would only accentuate and potentially aggravate it. My goal is to help not only identify it but rectify it as well. So here are my two cents in that regard.

First, there are those who have been religious since they saw the light of day. Contrary to conventional wisdom, they’re the ones most comfortable in their skins. They’re usually more forthcoming in talking about religion and more accommodating.

There are then those who’re recent ‘reverts’, some of whom become ‘trolls’ as they’re often referred as. They’re the ones who’re coming to grips with their religious fervor and more often than not, their zeal results in an outburst that does more harm than good to the cause of Islam. You’ll find them in all types of schools of thoughts and depending which side they are, you’ll find them labeling everyone in their way as ‘bidati’ or ‘wahhabi’. They want to see their loved ones come their way sooner rather than later and that leads them to yank others’ heads towards religion.

Extremism however, is hardly a virtue when it comes to calling people to Allah. What one needs to identify is their ‘sphere of influence’ and exert pressure only on that. That would be the one we’ll be answerable for. Everything beyond that, is beyond question.

Secondly, it’s easier and more fruitful to give more leeway to other Muslims. To construe everything to infidelity or apostasy is not only counter-productive, it’s meaningless. I’m not denying there are people who say rubbish in the name of religion, what I’m saying is that it has to be seen whether it’s within our sphere of influence or not. Also, there are a lot of times when someone wants to express their love to Allah or prophets (a.s.) or other religious figures but due to lack of eloquence, they end up saying something unintentionally provocative. When judging other muslims’ actions, do keep this in mind. As a recently received text said, often enough we’re very good advocates of our faults, and very good judges of others’, let’s buck this trend. At the end of the day, all of us want to go to jannah. Everyone loves Allah and Rasoolullah (Sallallahu alaihi wasallam), some more than others, some in different ways than the rest.

The threat that facebook is offering by making every small difference public is also an opportunity. Let’s for once celebrate the amazing diversity Allah has put in our religion that despite having different methods of prayers and different versions of salvation in mind, we have one book, one Prophet(Sallallahu alaihi wasallam) and one Rabb. We stand in the direction of Makkah for prayers and when in that holy place, all of us stand behind one imam. That’s worth thanking our Lord for. Let’s do it!

April 11, 2012

وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ

زندگی نشیب فراز سے عبارت ہے ۔ کبھی خوشی ، کبھی غم ۔ کبھی بیماری ، کبھی صحت ۔ کبھی جوانی ، کبھی بڑھاپا  ۔ کبھی قوت ، کبھی ضعف۔ کبھی ثروت ، کبھی عسرت ۔ یہ سب کیفیات زندگی کے ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ہمارا طرز عمل کیا ہوتا ہے ؟ ناگوار حالات میں ہم بہت زیادہ بد دل ہو جاتے ہیں ۔ اور ایسا سوچنے لگ جاتے ہیں کہ میرے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے یہ سب کچھ ؟ یا یہ کہ میری تو قسمت ہی خراب ہے ۔وغیرہ وغیرہ ۔

لَّا يَسْأَمُ الْإِنسَانُ مِن دُعَاءِ الْخَيْرِ وَإِن مَّسَّهُ الشَّرُّ فَيَئُوسٌ قَنُوطٌ﴿٤٩﴾ وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِن بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ هَـٰذَا لِي وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّجِعْتُ إِلَىٰ رَبِّي إِنَّ لِي عِندَهُ لَلْحُسْنَىٰ ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِمَا عَمِلُوا وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ ﴿٥٠﴾ وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنسَانِ أَعْرَضَ وَنَأَىٰ بِجَانِبِهِ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُو دُعَاءٍ عَرِيضٍ ﴿٥١﴾

انسان بھلائی کی دعائیں کرتا کرتا تو تھکتا  نہیں اور اگر تکلیف پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہوجاتا اور آس توڑ بیٹھتا ہے اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اس کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہو۔ اور اگر (قیامت سچ مچ بھی ہو اور) میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو میرے لئے اس کے ہاں بھی خوشحالی ہے۔ پس کافر جو عمل کیا کرتے وہ ہم ان کو ضرور جتائیں گے اور ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور جب ہم انسان پر کرم کرتے ہیں تو منہ موڑ لیتا ہے اور پہلو پھیر کر چل دیتا ہے۔ اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے۔۔۔﴿فصلت ۔۔۔ ٤۹-۵۱﴾

ذرا دیکھئے گا ۔۔۔ کہیں ہمارا آپکا حال تو نہیں بیان کیا جا رہا ؟ بڑی دعائیں کرتے ہیں ہم کہ یا اللہ یہ دے دے ، یا اللہ وہ دےدے ۔ اور پھر جب وہ نہیں ملتا تو بجائے اس کے کہ اس کو حکمت ربانی پر محمول کریں ، ہم مایوسی کے عالم میں کہہ اٹھتے ہیں کہ اللہ تو ہماری سنتا ہی نہیں ۔ ہماری تو دعا ہی قبول نہیں ہوتی ۔ حالانکہ یہ بات طے شدہ ہے کہ اخلاص سے کی ہوئی کوئی دعا کوئی عبادت رد نہیں ہوتی ۔ مومن کے نامہ اعمال میں لکھ دی جاتی ہے اور اس کے بدلے میں آخرت میں کیا ملنے والا ہے ، یہ علام الغیوب ہی بہتر جانتا ہے ۔ اور اس کی سنت ہے کہ وہ تو بہت بڑھا چڑھا کر جزا دیا کرتا ہے ۔ جیسا کہ ایک حدیث شریف میں بتایا گیا ہے کہ جو ادنیٰ درجے کا جنتی ہو گا اس کو دنیا سے دس گنا بڑی جنت عطا کی جائے گی ۔ اب سوچئے کہ ہم اور آپ بھلا کیا مانگتے ہیں ؟ اور آخرت میں کم سے کم کیا ملنے والا ہے ۔

اچھا ! دعا قبول ہو گئی اور جو مانگا مل گیا تو ہم کیا کرتے ہیں ؟ یا اللہ بیٹی کی شادی اچھی جگہ کرا دے ۔ اچھا رشتہ بھیج دے ۔ اور جب اچھا رشتہ آگیا تو پھر شادی کی تیاریوں اور تقریبات میں جو کچھ ہم کر رہے ہوتے ہیں وہ ہرگز اللہ کو راضی کرنے والے اعمال نہیں ہوتے ۔ گانا بجانا ، ڈانس پارٹیاں ، ہلڑ بازی ، نمود و نمائش ، اسراف ، نمازوں سے غفلت وغیرہ ۔ چلو بھئی شادی ہو گئی ۔ اب بچی اپنے گھر خوش نہیں تو پھر اللہ یاد آ گیا۔ اور خدانخواستہ بچی واپس گھر لوٹا دی گئی تو بجائے اپنی بد اعمالیوں کا محاسبہ کرنے کے اور شادی کے ہنگاموں کے دوران کی جانے والی خرافات کا جائزہ لینے کے ، اپنے رب اور تقدیر سے شاکی ۔ اسی طرح کامیابیوں پر لمبے چوڑے دعوے ۔۔۔ میں نے یہ کیا ۔۔۔ میں نے وہ کیا ۔۔۔ اور ناکامیوں پر ۔۔۔ اگر میں یوں نہ کرتا تو یہ نہ ہوتا ۔۔۔ اگر میں ایسا کر لیتا تو یہ ہو جاتا۔۔۔ کیا ہم مسلمان اس طرح کی باتیں نہیں کرتے ؟ کیا یہ سب تقدیر پر ایمان کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے ؟ یاد کیجئے ! ایمان تو یہ ہے کہ بندہ اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولوں پر ، آخرت پر اور ہر راحت یا مصیبت اللہ کے حکم سے نازل ہونے پر اور موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر ایمان لائے ۔

حضرت لقمان غلام تھے ۔ ان کا امیر ایک رحمدل شخص تھا اور ان سے بڑی محبت سے پیش آتا تھا ۔ ایک دن امیر کے پاس تحفے میں ایک بڑا خوش شکل خربوزہ آیا۔ امیر نے حضرت لقمان کو بلا بھیجا۔ امیر کا حکم پاتے ہی حضرت لقمان آئے اور ادب سے اس کے سا منے بیٹھ گئے۔ آقا نے ہاتھ میں چھری سنبھالی اور خربوزہ کاٹ کر ایک قاش حضرت لقمان کو دی ۔ انھوں نے مزے لے لے کر وہ قاش کھائی ۔امیر نے دوسری قاش کاٹ کر انھیں دی۔ وہ بھی لقمان نے نہایت ذوق و شوق سے کھائی۔ پھر اس نے تیسری قاش دی ،پھر چوتھی،یہاں تک کہ آقا نے سترہ قاشیں حضرت لقمان کو دیں اور انھوں نے ہر قاش بڑی رغبت سے کھائی۔ آخر میں ایک قاش باقی رہ گئی۔ آقا نے کہا “جی چاہتا ہے ،یہ قاش میں خود کھاؤں۔ معلوم ہوتا ہے خربوزہ بے حد شیریں ہے،جبھی تو نے سترہ قاشیں اتنے مزے لے لے کر کھائی ہیں۔” حضرت لقمان نے وہ آخری قاش بھی کھانے کی خواہش ظاہر کی، لیکن آقا نے نہ دی اور وہ اپنے منہ میں رکھ لی۔قاش کا منہ میں رکھنا تھا کہ سارا منہ حلق تک کڑواہو گیا۔اس نے جلدی سے تھوک دی اور پانی منگا کر خوب کُلیاں کیں۔لیکن دیر تک اس کی کڑواہٹ نہ گئی اور منہ کا مزا خراب رہا۔اس نے نہایت تعجب سے حضرت لقمان کی طرف دیکھا اور کہا:”لقمان! تو نے کمال کیا کہ یہ زہریلا خربوزہ اتنا شوق ورغبت سے کھایا اور اپنے چہرے سے ذرا خبر نہ ہونے دی کہ اس کی خوش رنگی اور خوش نمائی محض دھوکا ہے۔کیا یہ بھی صبر کی کوئی نرالی قسم ہے؟ حیرت ہے کہ تو نے کوئی اشارہ اس کڑوے خربوزے سے محفوظ رہنے کا نہ کیا۔اتنا ہی اشارہ کر دیا ہوتا کہ یہ نا پسندیدہ ہےاور مجھے اس کے کھانے میں عُذر ہے۔”حضرت لقمان نے ادب سے جواب دیا “اے آقا ، کیا عرض کروں۔کچھ کہتے ہوئے حیا آتی ہے ۔میں نے ہمیشہ تیرے  نعمت بخشنے والے ہاتھ سے اتنا کھایا ہے کہ مارے شرم کے گردن نہیں اٹھا سکتا ۔ یہ سوچ کر تلخ قاشیں کھائیں کہ جب تمام عمر اس ہاتھ سے انواع و اقسام کی لذیذ لذیذ نعمتیں کھاتا رہا ہوں تو صد حیف ہے مجھ پر کہ صرف ایک کڑوا خربوزہ کھا کر شور مچانے لگوں اور نا شُکری کا اظہار کروں۔حقیقت یہ ہے کہ تیرے شیریں ہاتھ نے اس خربوزے میں تلخی چھوڑی ہی کہاں تھی کہ میں شکایت سے اپنی زبان کو آلودہ کرتا؟”

ایک تجربہ کر کے دیکھئے ۔ ہفتے میں ایک دن دس منٹ کے لئے کاغذ قلم یا کمپیوٹر لے کر گوشہ تنہائی میں بیٹھ جائیے ۔ سب سے اوپر اس دن کی تاریخ درج کیجئے اور پھر ان تمام نعمتوں کا اندراج کرنا شروع کر دیجئے جو آپ کو میسر ہیں۔ یقیناً آپ سب کچھ تو نہیں لیکن بہت کچھ شمار کر سکتے ہیں ۔ اپنی ذات سے آغاز کیجئے ۔ مجھے میرے رب نے اشرف المخلوقات بنایا ہے ۔ میں دیکھ سکتا ہوں ۔ میں سن سکتا ہوں ۔ میں بول سکتا ہوں ۔ میں چل سکتا ہوں ۔میں لکھ سکتا ہوں ۔ میں پڑھ سکتاہوں ۔ میں سانس لے سکتا ہوں ۔ میں عقل و سمجھ رکھتا ہوں ۔ میں کھا پی سکتا ہوں۔ وغیرہ  ۔ اب اپنے کمرے کا جائزہ لیجئے ۔ پنکھا لگا ہوا ہے جو ہوا دے رہا ہے ۔ ایئر کنڈیشنر لگا ہوا ہے جو گرمی کی شدت محسوس ہی نہیں ہونے دے رہا ۔ لائٹ لگی ہوئی ہے جس سے روشنی نکل رہی ہے ۔ بجلی آ رہی ہے ۔ آرام دہ بستر موجود ہے ۔ اوڑھنے کو نرم ملائم کمبل میسر ہے ۔ الماری میں متعدد بیش قیمت اور آرام دہ ملبوسات موجود ہیں ۔ کئی جوڑی جوتے، چپل ، سینڈل موجود ہیں ۔ ڈریسنگ ٹیبل پر طرح طرح کے پرفیومز اور کریمز کا انبار موجود ہے ۔ لیپ ٹاپ موجود ہے جس پر میں نہ جانے کیا کیا کر سکتا ہوں ۔ ایک کِلک سے دنیا جہان کی معلومات تک رسائی حاصل کر سکتا ہوں ۔ موبائل فون موجود ہے جس پر لمحوں میں گھر بیٹھے ہی دنیا کے کسی بھی گوشے میں رابطہ کر سکتاہوں ۔ کمرے کے ساتھ ہی واش روم موجود ہے ۔ غسل اور طہارت کے حصول کے تمام اسباب موجود ہیں ۔ صابن ، شیمپو ، کنڈیشنر ، شاور جیل ، تولیہ وغیرہ سب کچھ موجود ہے ۔ نت نئے ڈیزائنز کے چمچماتے ہوئے نلکے لگے ہوئے ہیں ۔ جن میں پانی آ رہا ہے ۔ اس پانی پر ہی غور کیجئے ۔ ایک نلکے سے ٹھنڈا پانی نکل رہا ہے تو دوسرے میں گیزر سے گرم پانی آ رہا ہے ۔یہ پانی کہاں سے آ رہا ہے ؟اوپر ٹنکی سے ۔ اور اوپر ٹنکی میں کیسے جا رہا ہے ؟پانی کی موٹر سے ۔ جو کہ درست کام کر رہی ہے ۔ زیر زمین ٹینک میں بھی پانی بھرا ہوا ہے ۔ کمرے سے باہر دیگر کمرے ہیں ۔ ڈرائنگ روم میں قالین ، میز، صوفے ، پردے اور دیگر اشیاء موجود ہیں ۔ ساتھ ہی آرائش کا بہت سا سامان رکھا ہوا ہے ۔ سب کچھ نگاہوں کو کتنا بھلا لگ رہا ہے۔ باورچی خانے کا جائزہ لیجئے ۔ چولہا لگا ہوا ہے جس میں گیس آ رہی ہے ۔ یہ گیس کہاں سے آ رہی ہے ۔ سینکڑوں میل دور گیس کا کنواں ہے لیکن میں اپنے گھر پر چولہے کا ناب گھماتاہوں اور گیس آنے لگ جاتی ہے ۔ بے شمار قسم کے برتن موجود ہیں ۔ کھانے کی پلیٹیں ، پیالیاں ،پیالے ، چمچے، چھریاں ، کانٹے ، ڈونگے ، بھگونے وغیرہ ۔ پھر کیبنٹس میں کیا کیا جمع کر کے رکھا ہوا ہے ۔ دالیں ، آٹا ، گھی ، تیل ، چاول ، مصالحہ جات ، چائے کی پتی ، چینی ، دودھ وغیرہ ۔ فریج میں کیا کیا موجود ہے ۔ ٹھنڈا پانی ، کولڈ ڈرنک، مشروبات، مکھن ، پنیر ، کیچپ ، چٹنیاں ، گوشت ، چکن ، مچھلی وغیرہ ۔ طرح طرح کے کھانے پکا سکتے ہیں ۔ انواع و اقسام کے ذائقے موجود ہیں۔ بریانی ، قورمہ ، پیزا، برگر ، پلاوَ ، نہاری ، کڑاہی گوشت ، بروسٹ وغیرہ ۔ گھر کے باہر گاڑی یا موٹرسائیکل یا دونوں موجود ہیں ۔ ان کو چلانے کے لئے ایندھن گیس پٹرول وغیرہ دستیاب ہے ۔ جب جہاں جی چاہتا ہے ، چلا جاتا ہوں ۔ بسوں، رکشہ ٹیکسی کے جھنجھٹ سے آزاد۔ پھر گھروالے ، بیوی بچے، اچھی ملازمت، اعلیٰ تعلیم، دوست احباب وغیرہ وغیرہ ۔ کیا کیا کچھ میسر ہے ! کیا یہ سب کچھ ہر کسی کو میسر ہے ؟  صرف دس منٹ کی اس مشق سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ آپ کو کون کون سی اور کتنی نعمتیں حاصل ہیں ۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿الرحمٰن﴾

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

اتنا سب کچھ میسر ہونے کے باوجود بھی باری تعالیٰ کا شکر ادا نہ کرنا، اس کی عبادت و بندگی اختیار نہ کرنا ، اور کڑوے خربوزے کی مانند اک ذرا سی مصیبت پر بلبلا جانا ، چلّا اٹھنا ، اسے کیا کہا جائے سوائے ناشکری کے ؟یہ دنیا راہگزر ہے ، منزل نہیں۔ ہم بہت مختصر سے وقت کے لئے دنیا میں بھیجے گئے ہیں۔ ذرا سوچئے ! کیا ہم اس بات کے متحمل ہو سکتے ہیں کہ جو کچھ ہمیں میسر نہیں ہے اس پرکف افسوس ملنے میں یہ مختصر سی زندگی گنوا دیں ؟ تو کیوں نہ ایسا کر لیا جائے کہ جو کچھ ہمیں میسر ہے ، اس کا بھرپور مزہ لیں اور اپنے رب کا شکر ادا کریں ۔

سلطان محمود غزنوی نے اپنے غلام ایاز کو ایک انگوٹھی دی اور کہا : “اس پر ایک ایسی عبارت تحریر کرو جسے اگر میں خوشی کے عالم میں دیکھوں تو غمگین ہو جاوَں اور اگر غم کے عالم میں دیکھوں تو خوش ہو جاوَں “۔ ایاز نے  کچھ دن بعد انگوٹھی پر یہ عبارت لکھ کر واپس کر دی : “یہ وقت بھی گزر جائے گا۔”ایسی ایک انگوٹھی ہم بھی تو بنوا سکتے ہیں ! چلئے راحت کے عالم میں نہیں تو ابتلا کے وقت تو اس سے استفادہ حاصل کیا ہی جا  سکتا ہے ۔  جب کوئی مصیبت یا پریشانی لاحق ہوئی تو اس انگوٹھی کو دیکھ لیا ۔ شاید ہم رب کریم کی ناشکری سے بچ جائیں ۔

کہیں پڑھا تھا کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک بدو کو دیکھا کہ دعا مانگ رہا ہے : یا اللہ ! مجھے اپنے قلیل بندوں میں شامل کر لے ۔ حضرت عمر ؓنے دریافت کیا کہ بھائی یہ کیا مانگ رہے ہو ؟ اس نے جواب دیا: امیر المومنین !اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا: وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ ﴿ سبا: ١٣﴾ترجمہ: اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہیں۔تو میں بھی اپنے رب سے یہی دعا مانگ رہا ہوں کہ وہ مجھے اپنے قلیل بندوں میں شامل کر لے یعنی شکر گزاروں میں۔

آئیے ہم بھی اللہ تعالیٰ کے قلیل بندوں میں شامل ہو جائیں ۔ بہت آسان سا فارمولا ہے ۔ ”خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش ہے “۔ جو ہر حال میں یہی کہتا ہے یا اللہ تیرا شکر ہے تو جس حال میں بھی رکھے۔۔

اَلْحَمْدُ لِلَّـهِ عَلَىٰ كُلِّ حَال

February 13, 2012

یا صباحاہ!!! مسلمانو! اللہ اور اس کے رسولوں کے ناموس کی خاطر آواز بلند کرو!!!۔۔۔

Filed under: Current Affairs, Islam — Tags: , , , , , — ahmedabdullahk @ 5:33 pm

پاکستان کے نہایت مؤقر جریدے روزنامہ جنگ اخبار کے۱۱فروری،سن۲۰۱۲ ٫ یعنی گزشتہ کل کے ایڈیشن کےصفحہ نمبر ۴ پر اوپر تلے دو اشتہارات دیکھ کر عقل دنگ رہ گئی۔ اوپر دیئے گئے چھوٹے اشتہار میں لکھا تھا Jesus Christ Son Ahman جس کا مطلب بنتا ہے یسوع مسیح، خدازاد خدا! ۔ نیچے دیئے گئے اشتہار میں تفصیلی اعلانیہ اردو کی بجائے انگریزی زبان میں شائع کیا گیا ہے، جس کے نکات کا اردوترجمہ درج ذیل ہے (نعوذُ باللہ من ذالک)۔


یسوع مسیح، خدازاد خدا
میں ، تمہارا مالک ، یسوع مسیح، یعنی خدازاد خدا، روئے زمین کی تمام اقوام سے ہمکلام ہوں، اور انکشاف کرتا ہوں اپنی جلد واپسی کا۔ ہر ایک میری مرضی سے آگاہ ہو:

یسوع مسیح کا انکشاف
صدر وارن ۔ایس۔جیفس پر القاء ہوا
امریکی ریاست ٹیکساس میں واقع فلسطین
بروز بدھ بتاریخ ۲۷ دسمبر ، ۲۰۱۱

1. میری مقدس خواہش سے ہر ایک کو آگاہ کر دیا جائے
2. میں، جو زمین پر پوری خدائی قدرت رکھتا ہوں، وہ بھی جو میرے باپ الوهیم کو حاصل ہے، جو میرا ابدی باپ ہے؛ میں ،جسے تم یسوع مسیح کہتے ہو، تمہارا مالک اور تمہارا مقدس مسیحا، خدازادخدا، جس نے تم کو قبر سے رہائی دی، تاکہ میں موت کے اوپر اپنی طاقت سے تم میں سے ہر ایک کو مقدس حیات نو دے سکوں، تمام اقوام سے کہتا ہوں:
3. توبہ کرو، اور تابعِ فرمان بن جاؤ۔ تمام لوگوں کو بہر طور تابع فرمان ہونا ہوگا، کیونکہ میں حتمی فیصلہ دیا کرتا ہوں۔
4. ابھی توبہ کر لو، تاکہ میں اپنا لوں اور رحمت کروں ان سب پر جو میرے پاس آئیں؛ یہاں تک کہ میرے صیہون کے بندے بن جائیں۔ آمین

آگے واہن ۔ای۔ٹیلر اور جون ۔سی ۔مین ، جو کہ Fundamentalist Church of Jesus Christ of Latter day Saints کے مہا پادری یا اسقف ہیں، دونوں نے شہادت دی ہے کہ یہ الفاظ خدائے یسوع مسیح کے ہیں۔

اس اشتہار کی کاپی مضمون کے آخر میں منسلک کر دی گئی ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے ۔


اوپر دیئے گئے الفاظ راقم الحروف نے کس قلبی کیفیت کے ساتھ بیان کئے ہیں، بتانا مشکل ہے۔ نقل کفر کفر نہ با شد ۔ اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔اس اشتہار اور اشتہار کنندگان کے بارے میں میں، اور چند احباب، جس لمحے سے یہ اشتہار ہماری نظروں سے گزرا ہے، ریسرچ کر رہے ہیں۔تفصیلات آپ کی اطلاع کے لئے درج ذیل ہیں ۔

جس شخص پر یہ انکشاف القاء ہوا ہے، اس کا نام ہے وارن۔ایس۔جیفس   ۔ Warren Steed Jeffs جو کہ Fundamentalist Church of Latter day Saints کا صدر ہے، یہ FBIکی 10 Most Wantedکی لسٹ میں شامل تھا اور اب اس وقت امریکا میں بچیوں پر جنسی زیادتی کی سزا کے طور پر تا حیات عمر قید اور اسکے بعد مزید ۲۰ سال کی قید اور دس ہزار ڈالر جرمانے کی سزا بھگت رہا ہے۔ مزید برآں، جیفس   پر لواطت کے الزامات بھی رہے ہیں۔ یہ شخص اپنے ماننے والوں کے لِئے خدا اور عیسیٰ کا درجہ رکھتا ہےاور اپنے علاقے کا ‘مالک ‘ ہے۔اپنے ماننے والوں کی تمام جائداد، اراضی اور مکانات اسکے اختیار میں آتے ہیں ،محض اراضی کا تخمینہ قریباً ۱۰ کروڑ ڈالر بنتا ہے، ان اراضی میں امریکا کے مشہور شہر کولاراڈو سمیت آس پاس کی چار آبادیاں تقریباًپوری کی پوری داخل ہیں۔ یہ شخص اپنے علاقے میں لامحدود اختیارات کا مالک ہے ، جس کی شادی جس سے چاہے کروا سکتا ہے اور اس کی مرضی کے بغیر کسی کی شادی نہیں ہو سکتی، کسی ماننے والے کے بیوی بچوں کو کسی اور کے حوالے کرنے کی طاقت رکھتا ہے ، اور اسی اختیار کے تحت اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس نے اپنی حقیقی ماں ،اور اپنے باپ کی ایک اور بیوی کو چھوڑ کر، اس کی کئی درجن بیویوں یعنی اپنی سوتیلی ماؤں سے شادی کر رکھی ہے، ان سب حرکات و سکنات کے باوجود جیفس نبوّت اور خدائی کا دعویدار ہے، اور اس کے ماننے والے اسے نبی اور خدا مانتے ہیں ۔ اس اشتہار کی اشاعت اس تبلیغ کا ایک حصہ ہے جس میں وہ خدائی اور نبوت کا دعویدار ہے ۔

ایک مسلمان ملک میں خصوصا ً جہاں ناموسِ توحید و رسالت کے فدائین کروڑوں میں ہیں وہاں یہ اشتہار ایک چیلنج نہیں تو اور کیا ہے۔ اے ناموسِ توحیدورسالت پر مر مٹنے والو !کیا ہمارے اخباروں کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ ایک خدائی اور نبوت کے دعوے کے اشتہار کو اس دیدہ دلیری سے چھاپ دیں۔

میں یہ ماننے کے لئے ہرگز تیار نہیں کہ اخبار سے محض غلطی ہوئی ہوگی۔ کیونکہ اشتہار کے الفاظ نہایت واضح ہیں اور صرف ۵ منٹ کی ریسرچ سے میں نے یہ تمام معلومات اس شخص کے بارے میں اکٹھا کر لیں تو کیا اخبار والوں کو پتہ نہ چلا ہوگا کہ یہ شخص ایک خبیث اور مشہور اشتہاری مجرم ہے اور جو الفاظ ہم اپنے اخبار میں چھاپ رہے ہیں ان میں توہینِ توحید و رسالت بالکل عیاں ہے۔ آخر ایسی کیا افتاد آ پڑی تھی جو ایک مسلم ملک کے اخبار نے یہ اشتہار شائع کرڈالا، کیا آپ نے چند سکوں کے عوض اللہ اوراس کے رسولوں کی حرمت نہیں بیچ ڈالی؟ اگر ایسا ہے، تو تف ہے آپ سب لوگوں پر جو اس واقعے کے ذمہّ دار ہیں۔صرف مالکان ہی نہیں ، بلکہ ناشر و کاتب ، مدیر ، نائب مدیر سبھی پر تف ہے ۔

مسلمانو!اس اشتہار کو غور سے پڑھو ۔ ایک طرف اللہ کی وحدانیت کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تقدیس کو۔ بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی انتہائی جلیل القدر اور برگزیدہ ہستیاں ہیں ۔ تمام انبیائے کرام علیہم السلام ہمارے نبی ہیں ۔ ہاں پیروی ہم شریعت محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی کرتے ہیں ۔ تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہمارے بھی نبی ہیں، ان کی تقدیس کا خیال کرنا ہماری ذمہّ داری ہے! تیسری جانب میرے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلمّ کی آخری نبی حیثیت کو چلینج کیا جا رہا ہے!کیا اب بھی کچھ نہ کرو گے ؟

قدیم زمانہ عرب میں جب خطرے کی دہائی دی جاتی تھی تو کرتا پھاڑ کر سر میں مٹّی ڈال کر آواز لگائی جاتی تھی، یا صباحاہ! یا صباحاہ! میں اپنے نبی صلیّ اللہ علیہِ وسلم کے فرمان کے تابع ہوں، کہ جاہلانہ رسمیں دہرائی نہ جائیں ورنہ آج اس رسم کو دہرانے کا موقع ہوتا ، میں نہ کرتا پھاڑ سکتا ہوں اور نہ سر میں خاک ڈال سکتا ہوں مگر آواز تو بلند کر سکتا ہوں ۔۔۔۔۔ اسلئےمیری التجاء ہے عاشقانِ دینِ حق سے کہ توجہّ دیں اس دجّا لی دھمکی پر جو اس اخبار کے ذریعے شائع کی گئی ہے۔ میری التجاء ہے ان تمام جماعتوں سے جو مذہبی حمیت کی دعوے دار ہیں، کہ خدارا اس کے خلاف شدید ردّ عمل دکھائیں۔ میری التجاء ہے سپریم کورٹ آف پاکستان سے ، عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان سے، کہ آپ توہین عدالت پر وزیر اعظم پاکستان کو عدالت کے کٹہرے میں لا سکتے ہیں تو کیا اللہ ، اس کے نبی محمد صلیّ اللہ علیہ وسلمّ اورسیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حرمت کو پامال کرنے والوں کا محاسبہ نہیں کریں گے ؟ لللہ ان کا سخت محاسبہ کریں۔توہین خداوندی اور توہین رسالت کے قوانین کے تحت سو مو ٹو ایکشن لیجئے ، اور اس کا اجر آخرت میں پائیے ۔ اور میری التجاء ہے اپنے رب سے ، کہ تو اپنے نبی کی حرمت کا پاس کر، اور ان لوگوں کو ہدایت دے یا ایسا نیست و نابود کر کہ آئندہ کے لئے ان کمبختوں کو نہ اشتہار چھاپنا نصیب ہو، نہ چین اور سکون۔ میرے اللہ ان سب سے اپنا اور اپنے انبیاء کا بدلہ لے لے، کہ ہم تو ابھی صرف آواز ہی بلند کر سکتے ہیں، یا ہمارے ہاتھو ں پیروں کو آزاد کردے اور ہمارا مددگار بن جا، بے شک ہم اس قابل نہیں، تو ہمیں اپنی قدرت سے اس قابل بنا دے ۔۔ آمین




Older Posts »

Theme: Silver is the New Black. Blog at WordPress.com.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.